سیرتِ النبی قسط نمبر 43

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر :- 43

پہلی وحی نازل ہونے کے کئی مہینوں بعد تک کوئی اور وحی نازل نہیں ہوئی.. یہ دور فترت وحی یا انقطاع وحی کہلاتا ہے.. فترۃ وحی کی مدت میں محدثین کا اختلاف ہے.. کم سے کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ تین سال بتلائی جاتی ہے..

وحی کی اس بندش کے عرصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حزین وغمگین رہے اور آپ پر حیرت واستعجاب طاری رہا.. حضو ر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوچنے لگے کہ کہیں میرا رب مجھ سے ناراض تو نہیں ہو گیا.. صحیح بخاری کتاب التعبیرکی روایت ہے کہ..

''وحی بند ہوگئی جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر غمگین ہوئے کہ کئی بار بلند وبالا پہاڑ کی چوٹیوں پر تشریف لے گئے کہ وہاں سے خود کو گرا دیں لیکن جب کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے کہ اپنے آپ کو گرا دیں تو حضرت جبریل علیہ السلام نمودار ہوتے اور فرماتے.. "اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اللہ کے رسول برحق ہیں" اور اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اضطراب تھم جاتا , نفس کو قرار آجاتا اور آپ واپس آجاتے.. پھر جب آپ پر وحی کی بندش طول پکڑ جاتی تو آپ پھر اسی جیسے کام کے لیے نکلتے لیکن جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو حضرت جبریل علیہ السلام نمودار ہوکر پھر وہی بات دہراتے.."

حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ (یعنی وحی کی بندش ) اس لیے تھی تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو خوف طاری ہوگیا تھا وہ رخصت ہوجائے اور دوبارہ وحی کی آمد کا شوق وانتظار پیدا ہوجائے.. (فتح الباری ۱/۲۷) چنانچہ جب یہ بات حاصل ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وحی کی آمد کے منتظر رہنے لگے تو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دوبارہ وحی سے مشرف کیا..

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیان ہے کہ.. "میں نے حراء میں ایک مہینہ اعتکاف کیا.. جب میرا عتکاف پورا ہوگیا تو میں اترا.. جب بطن وادی میں پہنچا تو مجھے پکارا گیا.. میں نے دائیں دیکھا کچھ نظر نہ آیا , بائیں دیکھا تو کچھ نظر نہ آیا , آگے دیکھا کچھ نظر نہ آیا , پیچھے دیکھا کچھ نظر نہ آیا.. پھر آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی تو ایک چیز نظر آئی.. کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حِراء میں آیا تھا , آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے.. (اس وقت وہ اپنی اصلی شکل میں نمودار ہوا تھا.. حضرت جبریل علیہ السلام کو اس حالت میں دیکھ کر) میں اس سے خوف زدہ ہوکر زمین کی طرف جا جھکا (اور لرزہ طاری ہو گیا).. پھر میں نے (اسی حالت میں گھر) خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کے پاس آ کر کہا.. "مجھے چادر اوڑھا دو ___ مجھے چادر اوڑھادو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈال دو.." انہوں نے مجھے چادر اوڑھا دی اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالا.. اس کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں..

يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ O قُمْ فَأَنذِرْ‌ O وَرَ‌بَّكَ فَكَبِّرْ‌ O وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ‌ O وَالرُّ‌جْزَ فَاهْجُرْ‌ O

"اے کپڑے میں لپٹنے والے ! اُٹھو اور لوگوں کو خبردار کرو اور اپنے پروردگار کی تکبیر کہو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو اور گندگی سے کنارہ کرلو اور کوئی احسان اس نیت سے نہ کرو کہ زیادہ وصول کرسکو اور اپنے پرووردگار کی خاطر صبر سے کام لو.." (المدثر:۱تا ۵)

یہ نماز فرض ہونے سے پہلے کی بات ہے.. اس کے بعد وحی میں گرمی آگئی اور وہ متواتر نازل ہونے لگی..

(صحیح بخاری , کتاب التفسیر , تفسیر سورۂ مدثر)

یہی آیات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا نقطۂ آغاز ہیں.. سورہ علق سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت کا منصب عطا ہوا تھا اور سورہ مدثر (قُمْ فَأَنذِرْ‌) سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسالت کے مرتبہ پر فائز ہوئے.. ان آیات کا مطلع اللہ بزرگ وبرتر کی آواز میں ایک آسمانی نداء پر مشتمل ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس عظیم وجلیل کام کے لیے اٹھنے اور نیند کی چادر پوشی اور بستر کی گرمی سے نکل کر جہاد وکفاح اور سعی مشقت کے میدان میں آنے کے لیے کہا گیا ہے..

"اے چادر پوش ! اٹھ اور ڈرا " گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ جسے اپنے لیے جینا ہے وہ تو راحت کی زندگی گزار سکتا ہے لیکن آپ جو اس زبردست بوجھ کو اٹھا رہے ہیں تو آپ کو نیند سے کیا تعلق..؟ آپ کو راحت سے کیا سروکار..؟ آپ کو گرم بستر سے کیا مطلب..؟ یہ سکون زندگی سے کیا نسبت..؟ راحت بخش سازوسامان سے کیا واسطہ..؟

آپ اٹھ جایئے ! اس کار عظیم کے لیے جو آپ کا منتظر ہے.. اس بار گراں کے لیے جو آپ کی خاطر تیار ہے.. اٹھ جایئے ! جہد ومشقت کے لیے , تکان اور محنت کے لیے.. اٹھ جایئے ! کہ اب نیند اور راحت کا وقت گزر چکا.. اب آج سے پیہم بیداری ہے اور طویل اور پرمشقت جہاد ہے.. اٹھ جایئے ! اور اس کام کے لیے مستعد اور تیار ہوجایئے..

یہ بڑا عظیم اور پر ہیبت کلمہ ہے.. اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پرسکون گھر , گرم آغوش اور نرم بستر سے کھینچ کر تند طوفانوں اور تیز جھکڑوں کے درمیان اتھاہ سمندر میں اتار دیا اور لوگوں کے ضمیر اور زندگی کے حقائق کی کشاکش کے منجدھار میں لاکھڑا کیا..

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم___ اٹھ گئے اور بیس سال سے زیادہ عرصہ تک اٹھے رہے.. راحت وسکون تج دیا.. زندگی اپنے لیے اور اپنے اہل وعیال کے لیے نہ رہی.. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے تو اٹھے ہی رہے.. کام اللہ کی دعوت دینا تھا , آپ نے یہ کمر توڑ بارگراں اپنے شانے پر کسی دباؤ کے بغیر اٹھا لیا.. یہ بوجھ تھا اس روئے زمین پر امانت کبریٰ کا بوجھ , ساری انسانیت کا بوجھ , سارے عقیدے کا بوجھ اور مختلف میدانوں میں جہاد ودفاع کا بوجھ !!

اس پورے عرصے میں یعنی جب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ آسمانی ندائے جلیل سنی اور یہ گراں بار ذمہ داری پائی , آپ نے پیہم اور ہمہ گیر معرکہ آرائی میں زندگی بسر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی ایک حالت دوسری حالت سے غافل نہ کرسکی.. اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہماری طرف سے اور ساری انسانیت کی طرف سے بہترین جزا دے.. آمین..

( جاری ہے )

ریفرنس بُکس :-

سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی
تاریخ ابن کثیر (البدایہ والنھایہ)
سیرت ابن ھشام

Prayers Reminder

حي على الصلاة
 
حَيّ عَلَي الفَلاح
 

السلام و علیکم  و رحمۃ اللہ و برکاتہ ھو. صبح بخیر. پاکستان میں فجر کی نماز کا وقت ھو گیا ھے. نماز نیند سے بہتر ھے. اللہ کو پسند انسانوں کا پرندوں سے پہلے جاگ جانا. جزاک اللہ خیر
“Assalam-o-Alaikum  Wa-Rehmatullahe -Wabarkatu-ho
and is the mercy of Allah and his blessings. Safely in the morning. The time of Fajr prayer in Pakistan is completely. Prayer is better than sleep. Wake up before birds of humans like Allah. JazakALLAH

Prayers Reminder

حي على الصلاة
 
حَيّ عَلَي الفَلاح
 

السلام و علیکم  و رحمۃ اللہ و برکاتہ ھو. صبح بخیر. پاکستان میں فجر کی نماز کا وقت ھو گیا ھے. نماز نیند سے بہتر ھے. اللہ کو پسند انسانوں کا پرندوں سے پہلے جاگ جانا. جزاک اللہ خیر
“Assalam-o-Alaikum  Wa-Rehmatullahe -Wabarkatu-ho
and is the mercy of Allah and his blessings. Safely in the morning. The time of Fajr prayer in Pakistan is completely. Prayer is better than sleep. Wake up before birds of humans like Allah. JazakALLAH

سوالات اور جوابات

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ الله و برکاتہِ

سوال نمبر :- 1
  مومن ، کافر اور منافق کیا ہیں ؟

مومن ، زبان سے اسلام کا کلمہ پڑھنے اور قلب و عمل سے تصدیق
کرنے والا ، خدا اور رسول پر اور آخرت پر ایمان لانے والا اسلام
کی پیروی کرنے والا سچا اور پکا مسلمان

کافر ، خدا کو نہ ماننے والا شخص ، منکر خدا ، بے دین ، ملحد
وجود خدا وندی سے انکار کرنے والا

منافق ، دل میں کینہ رکھنے والا ، ظاہر میں دوست باطن میں دشمن
ریاکار ، دھوکا دینے کے لیئے ظاہرا ایمان لایا ہو ، دشمن اسلام

سوال نمبر :- 2
دل کی کتنی اقسام ہیں ؟  ( تفسیر البقرہ کے مطابق ) 

جواب  :- دل کی چار قسمیں ہیں ۔
1- صاف دل ( بری خصلتوں سے پاک ) جس میں چراغ کی طرح
ایمان کا نور چمک رہا ہو ۔
2 - وہ دل جس پہ مضبوطی کے ساتھ غلاف بندھا ہوا ہو
3 - اُلٹا دل
4 - وہ دل جو دو رُخا ہو ۔

صاف و شفاف دل سے مراد مومن کا دل ہے ، غلاف سے لپٹے ہووۓ
دل سے مراد کافرکا دل ہے ، الٹے دل سے مراد منافق کا دل ہے جو
جاننے بوجھتے کے باوجود انکار کرتا ہے ۔ اور در روخے سے مراد
وہ دل ہے جس میں ایمان بھی ہو اور وہ نفاق بھی ہو ۔

سوال نمبر :- 3
  عہد جہالت میں خواتین عریاں طواف کس وقت کیا کرتی تھیں ؟

جواب  :- رات کے وقت

سوال نمبر :- 4
  کھانا سامنے آ جاۓ تو نماز کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب :-  پہلے کھانا کھا لیں تاکہ نماز میں یکسوی ہو اور کھانے کی
طرف دھیان نا جاۓ ۔ ( بخاری و مسلم شریف )

سوال نمبر :- 5
  پاکساتن کی ان کم عمر ترین IT  مائیکروسافٹ سند پیشہ ور کا نام بتائیں
جو 16 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں ؟

جواب  :- ارفع کریم رندھاوا

اللہ سبحانہ آپ سب کو خوشیوں سے نوازے اور آپ کے لیے آسانیاں
پیدا کرے ایمان کی پختگی کے ساتھ ۔ ۔ ۔ !!!

سیرتِ النبی قسط نمبر (42)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر :- 42

سابقہ قسط میں اس بات کا ذکر رہ گیا تھا کہ جب غار حرا میں حضرت جبرائیل علیہ السلام پہلی وحی لے کر حاضر ہوئے تو اس کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام نے زمین پر پاؤں مارا جس سے پانی نمودار ہوا.. انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے خود وضو کیا.. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسی طرح وضو کیا.. اس کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام نے دو رکعت نماز چار سجدوں کے ساتھ پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اقتدا فرمائی..

پہلی وحی کے نزول کے ساتھ ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے منصب اور مقام کا علم ہو چکا تھا.. جناب ورقہ بن نوفل کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تشریف لے جانا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی خواہش کے احترام کے ساتھ ساتھ تبلیغ کے آغاز کا مرحلہ بھی تھا جس کے لئے قدرت نے جناب ورقہ بن نوفل کو ابتدائی کڑی بنایا.. منصب نبوت کے علم کے بعد تصدیق کرنے والوں کی ضرورت تھی.. یہ سعادت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور جناب ورقہ کے حصہ میں آئی.. جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر لوٹے اور نزول وحی کا ذکر کیا تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے دلجوئی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اخلاق عالیہ بیان کئے.. تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر آفت سے محفوظ رکھے گا.. مزید کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کی جان ہے , آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک اس کے نبی ہیں.. بشارت ہو کہ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سوائے خیر کے اور کچھ نہیں کرے گا.. جو منصب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ہے وہ حق ہے.. یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسولِ بر حق ہیں..

جناب ورقہ بن نوفل نے تصدیق بھی کی اور جذبۂ نصرت کی آرزو بھی.. اس کے چند دنوں بعد جناب ورقہ کی وفات ہو گئی.. چونکہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی تصدیق بھی کی اور جذبۂ نصرت کی آرزو بھی , اس لئے اکثر سیرت نگار آپ کو صحابی کے مرتبہ پر فائز سمجھتے ہیں..

اللہ کے آخری رسول پر ایمان لانے والی پہلی خاتون آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریک حیات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں.. بعثت کے فوراً بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور چارو ں صاحبزادیاں ایمان لے آئیں.. حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا روئے زمین کی پہلی مومنہ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیرہ سالہ مکی زندگی میں دس سال تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نہ صرف مونس و غمگسار بلکہ مشیر و شریک کار رہیں..

بعثت کے دوسرے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے..؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا.. "یہ اللہ کا دین ہے.. یہی دین لے کر پیغمبر دنیا میں آئے ہیں.. میں تم کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں.. اسی کی عبادت کرو.."

رات گزری اور دوسرے دن صبح وہ ایمان لے آئے.. اس وقت ان کی عمر آٹھ اور دس سال کے درمیان تھی..

خانوادۂ نبوت کے تیسرے فرد جنھیں آزاد کردہ غلاموں میں اول المسلمین ہونے کا اعزاز حاصل ہوا , وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ہیں جو قبیلہ بنوقضاعہ کے سردار حارثہ ابن شراجیل کے بیٹے تھے.. سفر کے دوران ڈاکوؤں نے اغوا کرکے عکّاظ کے بازار میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو فروخت کردیا تھا.. انہیں نے اپنی پھوپھی کے حوالے کیا اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کے لئے مامور کیا.. بعد میں حضرت زید رضی اللہ عنہ کے باپ کو ان کی موجودگی کا علم ہوا تو وہ انہیں لینے آیا مگر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے بہت محبت کرتے اور اپنا بیٹا کہا کرتے تھے اور وہ "زید بن محمد" کہلاتے تھے تاآنکہ سورۂ احزاب میں حکم نازل ہوا کہ "لوگوں کو اپنے باپوں کے ناموں سے پکارا کرو" ان کی پہلی شادی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کنیز اُم ایمن رضی اللہ عنہا سے ہوئی جن سے حضرت اُسامہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے.. ان کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی زاد حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا لیکن تفاوت مزاج کی بنا پر طلاق ہو گئی.. حضرت زید رضی اللہ عنہ سریہ موتہ(۸ ہجری) میں شہید ہوئے.. آپ رضی اللہ عنہ وہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن مجید میں آیا ہے..

آزاد مردوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جگری دوست حضرت ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہ کو اول المسلمین ہونے کا شرف حاصل ہے.. حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مکہ کے دولت مند تاجر , ماہر انساب , صائب الرائے اور فیاض فرد تھے.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جس کسی پر اسلام پیش کیا وہ اس سے کچھ نہ کچھ جھجکا بجز ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کے.. انہوں نے اسلام قبول کرنے میں ذرہ برابر توقف نہیں کیا.. ابن سعد نے لکھا ہے کہ جب وہ ایمان لائے تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم تھے.. انہوں نے اپنا سارا سرمایہ تبلیغ اسلام کے لئے وقف کردیا.. ہر نازک لمحہ میں رفاقت کا حق ادا کیا.. معراج کی صبح کفار کے پوچھنے پر بلا پس و پیش اس محیر العقول واقعہ کی تصدیق کی.. ہجرت کے خطرناک سفر اور غار ثور میں ساتھ رہنے کی بدولت "ثانی اثنین" کہلائے.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو "صدیق" کے لقب سے نوازا..

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تبلیغ سے عشرہ مبشرہ میں سے پانچ صحابی یعنی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ , حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ , حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ , حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا..

( جاری ہے )

ریفرنس بُکس :-

سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی
تاریخ ابن کثیر (البدایہ والنھایہ)
سیرت ابن ھشام

سوالات اور جوابات

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ الله و برکاتہِ

سوال نمبر :- 1
  مومن ، کافر اور منافق کیا ہیں ؟

مومن ، زبان سے اسلام کا کلمہ پڑھنے اور قلب و عمل سے تصدیق
کرنے والا ، خدا اور رسول پر اور آخرت پر ایمان لانے والا اسلام
کی پیروی کرنے والا سچا اور پکا مسلمان

کافر ، خدا کو نہ ماننے والا شخص ، منکر خدا ، بے دین ، ملحد
وجود خدا وندی سے انکار کرنے والا

منافق ، دل میں کینہ رکھنے والا ، ظاہر میں دوست باطن میں دشمن
ریاکار ، دھوکا دینے کے لیئے ظاہرا ایمان لایا ہو ، دشمن اسلام

سوال نمبر :- 2
دل کی کتنی اقسام ہیں ؟  ( تفسیر البقرہ کے مطابق ) 

جواب  :- دل کی چار قسمیں ہیں ۔
1- صاف دل ( بری خصلتوں سے پاک ) جس میں چراغ کی طرح
ایمان کا نور چمک رہا ہو ۔
2 - وہ دل جس پہ مضبوطی کے ساتھ غلاف بندھا ہوا ہو
3 - اُلٹا دل
4 - وہ دل جو دو رُخا ہو ۔

صاف و شفاف دل سے مراد مومن کا دل ہے ، غلاف سے لپٹے ہووۓ
دل سے مراد کافرکا دل ہے ، الٹے دل سے مراد منافق کا دل ہے جو
جاننے بوجھتے کے باوجود انکار کرتا ہے ۔ اور در روخے سے مراد
وہ دل ہے جس میں ایمان بھی ہو اور وہ نفاق بھی ہو ۔

سوال نمبر :- 3
  عہد جہالت میں خواتین عریاں طواف کس وقت کیا کرتی تھیں ؟

جواب  :- رات کے وقت

سوال نمبر :- 4
  کھانا سامنے آ جاۓ تو نماز کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

جواب :-  پہلے کھانا کھا لیں تاکہ نماز میں یکسوی ہو اور کھانے کی
طرف دھیان نا جاۓ ۔ ( بخاری و مسلم شریف )

سوال نمبر :- 5
  پاکساتن کی ان کم عمر ترین IT  مائیکروسافٹ سند پیشہ ور کا نام بتائیں
جو 16 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں ؟

جواب  :- ارفع کریم رندھاوا

اللہ سبحانہ آپ سب کو خوشیوں سے نوازے اور آپ کے لیے آسانیاں
پیدا کرے ایمان کی پختگی کے ساتھ ۔ ۔ ۔ !!!

Prayers Reminder

حي على الصلاة
 
حَيّ عَلَي الفَلاح
 

السلام و علیکم  و رحمۃ اللہ و برکاتہ ھو. صبح بخیر. پاکستان میں فجر کی نماز کا وقت ھو گیا ھے. نماز نیند سے بہتر ھے. اللہ کو پسند انسانوں کا پرندوں سے پہلے جاگ جانا. جزاک اللہ خیر
“Assalam-o-Alaikum  Wa-Rehmatullahe -Wabarkatu-ho
and is the mercy of Allah and his blessings. Safely in the morning. The time of Fajr prayer in Pakistan is completely. Prayer is better than sleep. Wake up before birds of humans like Allah. JazakALLAH

سوالات اور جوابات

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ الله و برکاتہِ
جمعہ المبارک 03 جمادی الاول  1437 ہجری 12 فروری 2016 ء 30 ماگھ

سیگمنٹ :- " جو سیکھا ہے وہ دوسروں کو بھی سیکھاوّ "

نوٹ :- جوابات دینے کے لیئے آپ اپنے والدین ، استاتذہ ، دوستوں ،
قرآن حکیم ، دینی کتب اور نیٹ سے راہنمائ لے سکتے ہیں ۔

:-

سوال نمبر :- 1
حضرت اسماعیل ذبیح اللہ جب پیدا ہووئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر کتنی تھی ؟

آپشن :-

- 82 برس
- 84 برس
- 86 برس
- 88 برس

سوال نمبر :- 2
کائینات کی تمام نعمتیں کس کے لیئے ہیں ؟

آپشن :-

-  بنی نوع آدم کے لیئے
- جنات کے لیئے
- بنی نوع آدم اور جنات کے لیئے
- بنی نوع آدم ، حشرات اور پرندوں کے لیئے

سوال نمبر :- 3
آسمان پہ جو پہلا گناہ سرزد ہوا اس کی بنیادی وجہ کیا تھی ؟

آپشن :-

- مکر و فریب / دھوکہ
- خوف / وسوسہ
- حسد
- غرور / تکبر

سوال نمبر :- 4
حضرت ابراہیم علیہ السلام سر زمین مکہ میں زمزم کے قریب حضرت بی بی حاجرہ علیہ السلام اور حضرت اسماعیل کو اللہ کے حکم سے چھوڑنے گئے تو کس سواری پہ سوار تھے ؟

آپشن :-

-  اونٹ
-  خچر
- گھوڑا
- گدھا 

سوال نمبر :- 5
  پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم کون سا ہے ؟

آپشن :-

- وارسک ڈیم
- نیلم جہلم ڈیم
- تربیلا ڈیم 
- بھاشا ڈیم

رزلٹ :- کل صبح 9 بجے کے بعد ان شاء اللہ

اللہ سبحانہ آپ سب کو خوشیوں سے نوازے اور آپ کے لیے آسانیاں
پیدا کرے ایمان کی پختگی کے ساتھ ۔ ۔ ۔ !!!!!

Prayers Reminder

حي على الصلاة
 
حَيّ عَلَي الفَلاح
 

السلام و علیکم  و رحمۃ اللہ و برکاتہ ھو. صبح بخیر. پاکستان میں فجر کی نماز کا وقت ھو گیا ھے. نماز نیند سے بہتر ھے. اللہ کو پسند انسانوں کا پرندوں سے پہلے جاگ جانا. جزاک اللہ خیر آج جمعہ ہے سورہ کہف اور سورہ جمعہ بھی پڑھیں  اور  دورد  ابراہیمی جیتنا ہو سکتا وہ بھی پڑھیں.
“Assalam-o-Alaikum  Wa-Rehmatullahe -Wabarkatu-ho
and is the mercy of Allah and his blessings. Safely in the morning. The time of Fajr prayer in Pakistan is completely. Prayer is better than sleep. Wake up before birds of humans like Allah. JazakALLAHا

سوالات اور جوابات

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ الله و برکاتہِ

سوال نمبر :- 1
قرآن مجید کی اس سورت کا نام بتائیں جس میں سب سے پہلے
سجدہ نازل کیا گیا  ؟

جواب  :-

- سورت النجم

سوال نمبر :- 2
سورت حشر کے لغوی معنی کیا ہے اور یہ مکی سورت ہے یا مدنی ؟

جواب  :-

- قیامت کے دن کے ، مدنی سورت

سوال نمبر :- 3
ابلیس کو قیامت تک کی مہلت سورت اعراف کا ذکر سورت اعراف کی کونسی آیت میں ملتا ہے ۔

جواب  :-

- آیت 18 تا 24

سوال نمبر :- 4
حضرت بی بی اماں حوا علیہ السلام کا نام کس نے رکھا ؟

جواب  :-

- حضرت آدم علیہ السلام نے

سوال نمبر :- 5
مار خور سے پہلے پاکستان کا قومی جانور کونسا تھا ؟

جواب  :-

- چیتا

اللہ سبحانہ آپ سب کو خوشیوں سے نوازے اور آپ کے لیے آسانیاں
پیدا کرے ایمان کی پختگی کے ساتھ ۔ ۔ ۔ !!!!!

سیرتِ النبی قسط نمبر (41)

السَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

سیرت النبی ﷺ لمحہ بہ لمحہ

قسط نمبر :- 41

قمری سال کے حساب سے جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر چالیس سال ایک دن ہوئی (اور یہی سن کمال ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہی پیغمبروں کی بعثت کی عمر ہے) تو آثار نبوت چمکنا اور جگمگانا شروع ہوئے.. اس حالت پر چھ ماہ کا عرصہ گزر گیا.. جب حراء میں خلوت نشینی کا تیسرا سال آیا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت سے سرفراز فرمایا گیا.. بیشتر سیرت نگار کے مطابق 9 ربیع الاول 41 میلادی مطابق 12 فروری 610ء پیر کی شام غار حرا میں روح الامین (حضرت جبریل علیہ السلام) ظاہر ہوئے اور فرمایا..

"اے محّمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بشارت قبول ہو.. آپ اللہ کے رسول ہیں اور میں جبرئیل ہوں.."

دوسرا قول یہ ہے کہ یہ رمضان کا مہینہ تھا.. تحقیق کے مطابق یہ واقعہ رمضان المبارک کی 21 تاریخ کو دوشنبہ کی رات میں پیش آیا.. اس روز اگست کی 10 تاریخ تھی اور 610ء تھا.. یہی قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشادہے.. شَهْرُ‌ رَ‌مَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْ‌آنُ (۲/۱۸۵) ''رمضان کا مہینہ ہی وہ (بابرکت مہینہ ہے ) جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا.." اور ہم اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دیکھتے ہیں.. إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ‌ (۹۷/۱) یعنی ''ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا..'' معلوم ہے کہ لیلۃ القدر رمضان میں ہےاور صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں پڑتی ہے اور انھی طاق راتوں میں منتقل بھی ہوتی رہتی ہے..

آیئے اب ذرا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی اس واقعے کی تفصیلات سنیں جو نبوت کا نقطۂ آغاز تھا اور جس سے کفر وضلالت کی تاریکیاں چھٹتی چلی گئیں.. یہاں تک کہ زندگی کی رفتار بدل گئی اور تاریخ کا رُخ پلٹ گیا.. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا.. "پڑھو.." آپ نے فرمایا.. "میں پڑھا ہوا نہیں ہوں.." آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس پر اس نے مجھے پکڑ کر اس زور سے دبایا کہ میری قوت نچوڑ دی.. پھر چھوڑ کر کہا.. "پڑھو.." میں نے کہا.. "میں پڑھا ہوا نہیں ہوں.." اس نے دوبارہ پکڑ کر زور سے دبایا , پھر چھوڑ کر کہا.. "پڑھو.." میں نے پھر کہا.. "میں پڑھا ہوا نہیں ہوں.."

اس نے تیسری بار پکڑ کر دبوچا , پھر چھوڑ کر کہا..

(۱) اِقْرَأْ بِاسْم رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ (۲) خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (۳) اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ (۴) الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ (۵) الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ

"پڑھو اپنے پروردگارکا نام لے کر جس نے سب کچھ پیدا کیا.. اُس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے.. پڑھو اور تمہارا پروردگار سب سے زیادہ کرم والا ہے.. جس نے قلم سے تعلیم دی.. انسان کو اُس بات کی تعلیم دی جو وہ نہیں جانتا تھا.. (سورہ علق , ا تا ۵)

اس غیر متوقع واقعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبرا گئے.. اس لئے کہ آپ کے گمان میں بھی نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی بنائے جانے والے ہیں.. مارے خوف کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لرزتے اور کانپتے غارِ حرا سے نکلے اور پہاڑ سے اترنے لگے.. درمیان میں پہنچے تو پھر آواز آئی.. "اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اللہ کے رسول ہیں اور میں جبریل ہوں.." آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اُٹھا کر دیکھا تو جبریل علیہ السلام آسمان کے کنارے ایک آدمی کی شکل میں کھڑے ہیں.. اس اعلان کے بعد جبریل علیہ السلام نظروں سے اوجھل ہو گئے.. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی ڈری , سہمی حالت میں سیدھے گھر پہنچے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا.. "مجھے چادر اوڑھا دو ___ مجھے چادر اڑھا دو.."

انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چادر اوڑھا دی.. یہاں تک کہ خوف جاتا رہا.. اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو واقعے کی اطلاع دی اور فرمایا.. "یہ مجھے کیا ہوگیا ہے..؟ مجھے تو اپنی جان کا ڈر لگتا ہے.."

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا.. "قطعاً نہیں.. واللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ رسوا نہ کرے گا.. آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صلہ رحمی کرتے ہیں , درماندوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں , تہی دستوں کا بندوبست کرتے ہیں , مہمان کی میزبانی کرتے ہیں اور حق کے مصائب پر اعانت کرتے ہیں.."

پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چچا زاد بھائی اور عیسائی عالم "ورقہ بن نوفل" کے پاس لے گئیں جو توریت اور انجیل کے عالم تھے اور انجیل کی عربی میں کتابت کرتے تھے.. وہ دور جاہلیت میں بُت پرستی سے بیزار ہو کر عیسائی بن گئے تھے.. ان کی عمر زیادہ ہو چکی تھی اور بینائی بھی جواب دے چکی تھی.. ان سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا.. "بھائی جان ! آپ اپنے بھتیجے کی بات سنیں.."

ورقہ نے کہا.. "بھتیجے ! تم کیا دیکھتے ہو..؟"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا بیان فرمادیا.. اس پر ورقہ نے آپ سے کہا.. "یہ تو وہی ناموس ہے جسے اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا.. کاش ! میں اس وقت توانا ہوتا.. کاش ! میں اس وقت زندہ ہوتا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوم آپ کو نکال دے گی.."

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا.. "اچھا ! تو کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے..؟"

ورقہ نے کہا.. "ہاں ! جب بھی کوئی آدمی اس طرح کا پیغام لایا جیسا تم لائے ہو تو اس سے ضرور دشمنی کی گئی اور اگر میں نے تمہارا زمانہ پالیا تو تمہاری زبردست مدد کروںگا.."

جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ورقہ بن نوفل سے رخصت ہونے لگے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرِ اقدس کو بوسہ دیا.. اس کے بعد ورقہ جلد ہی فوت ہوگئے اور وحی کا سلسلہ بھی کچھ عرصے کے لیے رک گیا..

( جاری ہے )

ریفرنس بُکس :-

سیرت النبی.. مولانا شبلی نعمانی
تاریخ ابن کثیر (البدایہ والنھایہ)
سیرت ابن ھشام